آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری ہوگیا ۔
مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان سمیت مصر،ترکیہ، انڈونیشیا، اردن ، قطر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل ہیں ۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی شدید مذمت کی گئی ۔ رام اللہ کے شمال میں مساجد پر حملوں کو مذہبی مقامات کی بے حرمتی قرار دے دیا گیا۔
جیلجیلیا گاؤں کی گرینڈ مسجد اور مزارعہ النوبانی کی الفاروق مسجد پر حملے ناقابل قبول قرار دیا ، مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ۔ یہ حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں اور غیر قانونی اقدامات کو خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دی،مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے جاری غیر قانونی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں،اعلامیے میں اسرائیل کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا۔
مشترکہ اعلامیہ میں عالمی برادری سے اسرائیل کو تشدد روکنے پر مجبور کرنے کا مطالبہ کیا ،مغربی کنارے میں کشیدگی کم کرنے اور غیر قانونی کارروائیاں فوری ختم کرنے کی اپیل کی ، حملوں میں ملوث افراد کو جوابدہ بنانے اور استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کیا، آٹھ وزرائے خارجہ کا فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ، فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ۔
1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے،مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے پر زور دیا ، دو ریاستی حل کے تحت دیرپا اور منصفانہ امن کے قیام کی حمایت کی ۔
اعلامیے میں عرب امن منصوبے اور عالمی قوانین کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیا ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






