راولپنڈی (آئی این پی): چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشکش محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس پر سنجیدگی سے پیش رفت ضروری ہے۔
اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آج تک اپوزیشن کی طرف نیک نیتی کے ساتھ عملی طور پر ہاتھ نہیں بڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو خود آگے بڑھ کر رابطہ کرنا چاہیے، کیونکہ بار بار یہ کہنا کہ “پوچھ کر بتائیں گے” مناسب رویہ نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے پاس نیوکلیئر صلاحیت موجود ہے، سیاسی ملاقاتوں اور مذاکرات میں تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ “بغل میں چھری اور منہ میں رام رام” والا رویہ قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ منظور کرانے کے لیے بانی چیئرمین سے ملاقات ضروری ہے، تاہم صوبائی حکومت کے پاس ایک مضبوط معاشی اور قانونی ٹیم موجود ہے جو بہتر فیصلے کرے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا جانا چاہیے، اور جس کسی نے بھی امن معاہدے میں کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی حقیقی جمہوریت کے لیے اسی طرز کا ایک “سیاسی امن معاہدہ” ضروری ہے جس میں آئین، جمہوریت، معیشت اور عوامی حقوق کو تحفظ دیا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حالیہ بیان کو بھی سراہتے ہوئے انہیں زیرک سیاستدان قرار دیا اور کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج یا شو نہیں کیا جاتا بلکہ لوگ اظہار یکجہتی کے لیے آتے ہیں، اور احتجاج کرنا آئینی و جمہوری حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 245 دن گزرنے کے باوجود بانی چیئرمین سے ملاقات نہیں کروائی گئی، جبکہ سزا یافتہ افراد کو بھی اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی چیئرمین کو شفا انٹرنیشنل منتقل کر کے ان کے ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے۔ ان کے مطابق طبی پیچیدگیوں کے باعث مزید انجکشنز کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، اور ملک میں جاری سیاسی تناؤ کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی فارورڈ بلاک یا وزارت اعلیٰ کا کوئی دوسرا امیدوار نہیں، اور تمام اراکین اسمبلی کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






