عام طور پر جنگوں اور عالمی بحرانوں کے دوران سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ سمجھتے ہیں جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ایران تنازع کے دوران صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بلند شرحِ سود، مضبوط امریکی ڈالر اور مہنگائی کے خدشات نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے سونے کی قیمت مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 جنوری کو سونا فی اونس 5 ہزار 303 ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھا جو حالیہ دنوں میں کم ہو کر تقریباً 4 ہزار 235 ڈالر فی اونس تک آ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عالمی منڈی میں سرمایہ کار اب یہ توقع کر رہے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک شرحِ سود میں کمی کے بجائے اسے بلند رکھ سکتے ہیں یا مزید اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔
ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے تیل کی ترسیل کو متاثر کیا، جس سے توانائی کی قیمتیں بڑھیں اور عالمی مہنگائی میں اضافہ ہوا،امریکا میں مہنگائی کی شرح بھی کئی برسوں کی بلند سطح پر پہنچ گئی، جس نے شرحِ سود میں فوری کمی کے امکانات کم کر دیئے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق سونا ایسی سرمایہ کاری ہے جو باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتی، اس لیے جب شرحِ سود زیادہ ہو تو سرمایہ کار ڈالر اور دیگر منافع بخش اثاثوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں،اس صورتحال میں مضبوط امریکی ڈالر بھی سونے کے لیے منفی عنصر بن جاتا ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ڈالر میں طے ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہونے سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے، جو طویل مدت میں سونے کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے، تاہم شرحِ سود اور ڈالر کی صورتحال مستقبل میں قیمتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






