صلح کروانے کی عزت ایک مسلمان ملک کے حصے میں آ گئی! خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ان شاء اللہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ آئندہ ایک یا دو روز میں طے پا جائے گا، جبکہ اس عمل میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ امریکا اور ایران معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سفارتی پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے اور بعض حلقوں میں اس معاہدے کو “اسلام آباد پیکٹ” کے نام سے پیش کیے جانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خطے کی تاریخ میں ایسی مثال کم ملتی ہے کہ کسی ملک نے ایک بڑی جنگ اور ممکنہ تباہی کو روکنے میں اتنا مؤثر کردار ادا کیا ہو۔ پاکستان نے مستقل مزاجی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا اور دونوں فریقوں کو بات چیت کی میز پر برقرار رکھنے کے لیے اہم کوششیں کیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مذاکرات طویل اور پیچیدہ تھے، تاہم پاکستان نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے منقطع نہ ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مختلف مراحل پر اسرائیل نے منفی اور کشیدگی بڑھانے والا کردار ادا کیا۔ ان کے بقول اسرائیل خطے میں تنازع کو جاری رکھنا اور امریکا کو اس خطے میں الجھائے رکھنا چاہتا تھا، تاہم امریکی انتظامیہ نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی ہزاروں سالہ تاریخ اور قومی عزم کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، جبکہ دونوں فریقوں نے بالآخر تحمل اور دانشمندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک نے بھی اس تمام عمل میں ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے یہ معاہدہ اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا پائیدار حل ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت سے ہی نکلتا ہے، جنگ اور خونریزی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں بھی جلد حالات میں بہتری اور کشیدگی میں کمی کی توقع ہے، کیونکہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close