لاہور: پاکستان کسان اتحاد نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجٹ میں زرعی شعبے اور کسانوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا، جس سے کاشتکاروں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسانوں اور زراعت کا ذکر تک نہیں کیا، جو زرعی شعبے اور کاشتکار برادری کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت اور کسانوں کو نظر انداز کرنا دراصل ملکی معاشی ترقی کو نظر انداز کرنے کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو توقع تھی کہ بجٹ میں زرعی پیداوار کے لیے ضروری پانچ بنیادی اشیا، جن میں کھاد، زرعی ادویات، بیج، ڈیزل اور بجلی شامل ہیں، پر ریلیف دیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
خالد حسین باٹھ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 30 جون تک کھاد اور ڈیزل پر سبسڈی سمیت کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے، بصورت دیگر ملک بھر کے کسان احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسان مالی سال 2027 میں ملکی ترقی کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ زرعی شعبے کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔
چیئرمین کسان اتحاد نے مزید کہا کہ تنظیم زرعی شعبے میں موجود کرپشن اور مافیا کے کردار کو بے نقاب کرے گی اور کسانوں کے حقوق کے حصول کے لیے ہر آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 30 جون تک کسانوں کے لیے مؤثر اور خاطر خواہ ریلیف کا اعلان نہ کیا گیا تو ملک بھر کے کسان سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2027 کسانوں اور زراعت کی ترقی کا سال ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت زرعی شعبے کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






