سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان کا مشرق وسطیٰ کشیدگی کے فوری سفارتی حل کا مطالبہ

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی پالیسیاں عدم استحکام اور دہشتگردی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام اور دہشتگردی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت دہشتگردی کی معاونت، پشت پناہی اور مالی مدد کر رہا ہے اور بعض دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ مارچ میں کی جانے والی کارروائیاں افغانستان سے سرگرم دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں اور ان کا مقصد افغان عوام کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں تھا۔ ان کے مطابق پاکستان نے کارروائیوں کے دوران ڈرونز اور اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنایا جبکہ حملے سوچے سمجھے اور پیشہ ورانہ انداز میں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کسی اسپتال، منشیات بحالی مرکز یا شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا اور حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کی گئیں جن سے اہداف کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت پر حیرت نہیں کیونکہ دہشتگردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے بعد یہ روابط مزید نمایاں ہوئے ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے واقعات میں 1200 سے زائد پاکستانی شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی بھارت کی پراکسی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے اور اسے بھارت سے معاونت اور مالی مدد حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ افغانستان میں دہائیوں سے جاری تنازعات کے اثرات پاکستان نے برداشت کیے ہیں جبکہ افغانستان میں امن، خوشحالی اور استحکام کا سب سے زیادہ فائدہ بھی پاکستان کو ہی پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ایک مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close