مطالبات نہ مانے تو تمام اسپتال بند کر دیں گے! شدید احتجاج

پشاور: پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے حکومت سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں دو ہفتوں کے اندر مرحلہ وار احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر زبیر نے کہا کہ اگر حکومت نے حالیہ مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا تو پہلے مرحلے میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اسپتالوں اور دوسرے مرحلے میں صوبے بھر کے اسپتالوں میں سروسز معطل کر دی جائیں گی۔

اس موقع پر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عامر تاج، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر یاسر اور ڈاکٹر فضل منان بھی موجود تھے۔ اس سے قبل ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کے حق میں پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور جی ٹی روڈ پر ریلی بھی نکالی۔

ڈاکٹر زبیر نے کہا کہ 2016 کے بعد ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ مہنگائی میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیشلسٹ، انتظامی، ٹیچنگ کیڈرز، ہاؤس آفیسرز اور میڈیکل آفیسرز کی تنخواہیں ایک دہائی قبل کی سطح پر ہیں۔

انہوں نے محکمہ صحت میں سیاسی مداخلت کے خاتمے، میرٹ پر تعیناتیوں، اقربا پروری اور کرپشن کے سدباب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عہدوں پر بندربانٹ کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔

چیئرمین پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر اور ہیلتھ کیئر کمیشن رجسٹریشن، لائسنس اور تربیت کے نام پر ڈاکٹروں سے اضافی مالی بوجھ وصول کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ آفس کی جانب سے ڈاکٹروں کی ترقیوں میں کئی برسوں سے تاخیر کی جا رہی ہے، لہٰذا تمام کیڈرز کے ڈاکٹروں کی پروموشنز کے لیے خصوصی پروموشن بورڈ کا اجلاس بلایا جائے۔

ڈاکٹر زبیر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ سے قبل ڈاکٹروں کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بڑھائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سرکاری ڈاکٹروں کی تنخواہیں 50 سے 60 ہزار روپے جبکہ نجی اسپتالوں میں 40 سے 45 ہزار روپے ماہانہ ہیں، جو موجودہ حالات میں ناکافی ہیں۔

انہوں نے فیشل ریکگنیشن سسٹم ختم کرنے، کنٹریکٹ اور فکسڈ پے ملازمین کے استحصال کا خاتمہ کرنے، ایم ٹی آئی اسپتالوں میں شفاف بھرتیوں، تھرڈ پارٹی آڈٹ اور سات ماہ سے تنخواہوں سے محروم ڈاکٹروں کو فوری ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈاکٹر زبیر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کے مسائل حل کیے جائیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ اور معاشی مشکلات سے نکل کر بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close