لوگوں کو بھکاری بنانے والا پروگرام

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں بے پناہ کرپشن موجود ہے اور اس پروگرام کے باوجود غربت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے، جبکہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے الگ بلدیاتی نظام ناگزیر ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مسائل انتہائی تشویشناک ہیں اور انہیں مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے الگ بلدیاتی نظام تشکیل دینا اور بلدیاتی اداروں کو مؤثر اختیارات دینا ضروری ہے، بصورت دیگر نئے انتظامی یونٹس قائم کرنا ہوں گے کیونکہ موجودہ نظام کے تحت شہر کو مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رائے کا احترام کرتے ہیں، تاہم گلگت بلتستان جا کر صرف تقاریر کرنے سے فنڈز میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے پر باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر میں جن مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے، اگر انہی نکات کو کراچی کی صورتحال پر منطبق کیا جائے تو وہ مسائل وہاں بھی موجود نظر آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبے قومی وسائل میں 58 فیصد حصہ حاصل کر رہے ہیں تو انہیں سماجی بہبود اور فلاحی شعبوں کی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں نبھانی ہوں گی۔

مشیر وزیراعظم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن پائی جاتی ہے اور اس پروگرام سے غربت کے خاتمے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے بقول ہر تین ماہ بعد 13 ہزار روپے دینا لوگوں کو خود کفیل بنانے کے بجائے انحصار کی طرف لے جاتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close