اس ترقی یافتہ دور میں سائنس دان چیزوں کو برقی رفتاری سے چارج کرنے کے نئے طریقے متعارف کرا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایم آئی ٹی کے محققین نے برقی گاڑیوں اور ڈیوائسز کو تیزی سے چارج کرنے کا ایک طریقہ دریافت کیا ہے۔
یہ حالیہ دریافت تمام لیتھیم آئن بیٹریوں کے بنیادی ری ایکشن سے متعلق ہے۔ اسمارٹ فونز سے لے کر برقی گاڑیوں تک کو توانائی فراہم کرنے والی یہ بیٹریاں لیتھیم آئنز نامی ذرات کو ٹھوس الیکٹروڈز کے اندر اور باہر حرکت دے کر کام کرتی ہیں۔ یہ عمل بیٹری کی زندگی میں ہزاروں بار دہرایا جاتا ہے۔
اس ری ایکشن کی رفتار اس بات کا تعین کرتی ہے کہ بیٹری کتنی جلدی چارج ہوتی ہے اور کتنی توانائی فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم ایم آئی ٹی کے محققین نے اپنی تحقیق میں دیکھا کہ یہ ری ایکشن ’’کپلڈ آئن–الیکٹران ٹرانسفر‘‘ عمل پر انحصار کرتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے لیتھیم آئنز الیکٹروڈ کے اندر زیادہ مؤثر انداز میں حرکت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈیوائسز اور بیٹریاں زیادہ تیزی سے چارج ہو سکتی ہیں
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






