پیپلز پارٹی کے ترجمان ندیم افضل چن نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے بڑا دعویٰ کردیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان ندیم افضل چن نے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے نیب کی سرگرمیوں، ماورائے عدالت اقدامات اور حکومتی طرزِ عمل پر کڑی تنقید کی اورکہاکہ جیسے ہی ملک میں آئینی ترامیم کی بات شروع ہوتی ہے، نیب اچانک سرگرم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے جبری گمشدگیوں اور بیانات دلوا کر واپسی کے عمل پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر ضلع سے افسران غائب ہوئے اور پھر بیان دے کر واپس آئے۔
ندیم افضل چن نے کہاکہ اس سال میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہوجانی ہے، بانی پی ٹی آئی کوسیاسی جماعتوں سےہی بات کرنا ہوگی اوریہ ڈیل نہیں کہلائے گی، سیاسی جماعتوں سےڈائیلاگ ہوگا اور میثاق جمہوریت کو کوئی ڈیل نہیں کہتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کو گزشتہ 50 سال سے کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن وہ آج بھی قومی سطح پر موجود ہے،آصف زرداری پریشر میں زیادہ بہتر سیاست کرتے ہیں کیونکہ جب پیپلز پارٹی رگڑے میں آتی ہے تو پہلے سے زیادہ بہتر ہو کر ابھرتی ہے۔موجودہ حکومت جمہوری سے زیادہ’’بیوروکریٹک‘‘ طریقے سے چل رہی ہے، مہنگائی اور بے روزگاری انتہا پر ہے جبکہ زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، سی سی ڈی سے امن میں بہتری تو آئی لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے،انہوں نے ن لیگ کے ایم پی اے پر حملے کو ماورائے عدالت معاملات کا نتیجہ قرار دیا۔
ندیم افضل چن نے خبردار کیا کہ ملک میں جو بظاہر سکون نظر آ رہا ہے، وہ دراصل کسی بڑے سیاسی لاوے کے پھٹنے کی علامت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوام معاشی طور پر شدید تنگ ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






