مزدور طبقے کیلئے تاریخی اعلان، کم از کم تنخواہ 40 ہزار مقرر

لاہور:   پنجاب اسمبلی میں ملازمین کی کم از کم اجرت 40000 روپے کو ریگولیٹ کرنے کا بل منظور ہوگیا، اب حتمی دستخط کے لئے گورنر پنجاب کو ارسال کیا جائے گا۔پنجاب حکومت نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور معاشی دبا ئوکے پیشِ نظر ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے “پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی (ترمیمی) ایکٹ 2026 کثرتِ رائے سے منظور کروا لیا۔اس بل کے ذریعے دہائیوں پرانے سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965 میں اہم ترامیم کی گئی، نئی قانون سازی کے تحت صوبے میں کم از کم اجرت باضابطہ طور پر 40,000 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پرانے قانون میں تنخواہ کی حد اب بھی 22,000 روپے درج تھی، جس کی وجہ سے انتظامی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں، اس فرق کی وجہ سے سوشل سیکیورٹی کنٹری بیوشن کی وصولی میں محکمہ کو مشکلات کا سامنا تھا۔ترمیمی ایکٹ کا مقصد سوشل سیکیورٹی کے ڈھانچے کو موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنانا ہے، جولائی 2022 سے اب تک ادا کیے گئے سوشل سیکیورٹی کنٹری بیوشن کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ لیبر قوانین کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ان اصلاحات کے بغیر متعلقہ محکموں کو مزدوروں کے حقوق نافذ کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، جو اب اس ترمیمی بل کے بعد ختم ہو جائے گی۔پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل اب حتمی دستخط کے لیے گورنر پنجاب کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔پنجاب حکومت کے اس اقدام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں محنت کش طبقے کے لیے ایک بڑی راحت اور لیبر پروٹیکشن کی سمت میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close