خطرناک وائرس سے اموات ، ایک انسان سے دوسرے میں کیسے منتقلی ہوتی ہے ؟ جانئے

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ادارۂ صحت نے اس وائرس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے۔

 

ایسا اس لیے کیونکہ اس وائرس کے باعث کروز پر 3 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ کچھ دیگر افراد کے بھی بیمار ہونے کی اطلاع ہے۔ اگر یہ وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہونے لگا تو یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ماہرین طب کے مطابق ہنتا وائرس ایک سنگین متعدی بیماری ہے، جو عام طور پر متاثرہ چوہوں کے پیشاب اور لعاب کے ذریعے پھیلتی ہے۔ یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کروز پر موجود افراد کسی متاثرہ چوہے کے رابطے میں آ گئے تھے، جس کی وجہ سے ان میں یہ وائرس پھیلا۔ تاہم یہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوا ہے یا نہیں، اس بارے میں ابھی واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بھارتی ماہر طب ڈاکٹر جگل کشور کا کہنا ہے  کہ فی الحال اس وائرس کے انسان سے انسان میں منتقلی کا کوئی آفیشیل معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت بھی کہتا ہے کہ عام طور پر یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا، لیکن اگر وائرس کے اسٹرین میں کوئی تبدیلی آ جائے اور کوئی نیا اسٹرین گردش میں ہو تو اس سے انسانوں میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ فی الحال اسٹرین بارے میں کوئی ٹھوس معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ڈاکٹر کشور کے مطابق ابھی اس وائرس کے کسی ملک میں بڑے پیمانے پر کیسز سامنے نہیں آئے ہیں، صرف کروز جہاز پر ہی اس کا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے۔ ایسے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیکن احتیاط اور ہوشیاری ضروری ہے۔ خاص طور پر لوگوں کو اس کی علامات کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے۔ ہانتا  وائرس کی اہم علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد، سانس لینے میں دشواری، تھکن اور کمزوری، بعض صورتوں میں سر درد وغیرہ شامل ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close