پشاور(آئی این پی)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی بیماری کو سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کی دائیں آنکھ کا مسئلہ ہے،سب سے بڑی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگا ئوگے تو پھر ہم کیا کریں گے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران کہا کہ جیل جیل کی بات ہوتی ہے کوئی کرپشن پر جیل میں جاتا ہے، حقیقت میں ذوالفقار علی بھٹو کو اس 73 کے آئین پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن پھر داماد اور نواسے نے جس طرح آئین میں کیل ٹھونکی تو بھی ان کے سر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا جب نام آیا تو کچھ لوگوں نے مجھے دہشت گرد اور سمگلر کہا، یہ میری توہین نہیں بلکہ یہ سارے ایوان کی توہین تھی، میں جمہوری تھا اور میں جمہوری ہوں، یہ میرا حق ہے کہ میں اپنے لیڈر سے ملوں، میں نے قومی اسمبلی، حکومت پنجاب اور اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی ملنے کے لئے رابطہ کیا۔عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین ججوں کے فیصلے کے باوجود ایک جیل کا سپرنٹنڈنٹ کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہے، یہاں جمہوریت کو نقصان پہنچایا گیا، کل کسی اور کے ساتھ بھی یہ ہوسکتا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چیئر مین پی ٹی آئی ہزار دن سے زائد جیل میں گزار چکے ہیں، شدید تکلیف میں ہیں لیکن انہوں نے ایک بار بھی شکایت نہیں کی، اب بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ کو بھی آنکھ کا مسئلہ ہوا ہے لیکن ان کی فیملی سے نہیں ملنے دیا جارہا ہے، دونوں کی دائیں آنکھ کا مسئلہ ہے، یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکسز سے ان کے لوگ باہر جاتے تھے، ہم نے تمام قانونی طریقے آزمائے لیکن انہوں نے ہم پر آئینی دروازہ بند کر دیا تو ہم پھر کیا کریں، 26 سال میں ایک گملا بھی ہم نے نہیں توڑا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان کی جب بات آئی تو یہ ملک ہم سب کا ہے، میں اپنا سیاسی کام ایک طرف رکھ کر آیا ہوں لیکن اس کے اگلے روز ہی چیئرمین کی بہنوں پر تشدد کیا گیا، بشریٰ بی بی کو ان کی بیٹیوں اور چیئر مین کو ان کی بہنوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ جب ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگا ئوگے تو پھر ہم کیا کریں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






