مفت موبائل فون سم کی آڑ میں جعلی سم کارڈز کے دھندے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جعلی سمز کے اجرا سے بچنے کے لیے ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔
ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ شہری مفت سم کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز کسی غیر متعلقہ جگہ پر فراہم نہ کریں، کیونکہ اس طرح دھوکہ دہی کے ذریعے صارف کی لاعلمی میں اس کے نام پر دوسری سم بھی جاری کی جا سکتی ہے۔ پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی کے نام پر جاری ہونے والی سم غیر قانونی استعمال میں آئے تو اس سے متعلق قانونی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی اے نے ہدایت دی ہے کہ نئی سم ہمیشہ موبائل فون کمپنی کے کسٹمر سروس سینٹر یا فرنچائز سے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی حاصل کی جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صارف کی اجازت کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر کوئی سم رجسٹر نہ ہو۔
اتھارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ اضافی اور غیر استعمال شدہ سمز کو فوری طور پر بلاک کرائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






