200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں سلیب سسٹم کی وجہ سے دوگنا سے بھی زیادہ اضافے کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے نیپرا سمیت تمام فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کا موجودہ طریقہ کار آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین ‘پروٹیکٹڈ کیٹیگری’ میں شامل ہیں، لیکن سلیب سسٹم کی وجہ سے یونٹ بڑھتے ہی بل دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ اضافی بل سزا کے طور پر 6 ماہ تک بھیجا جاتا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔دورانِ سماعت دلائل دیے گئے کہ نیپرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے، کوئی سزا دینے والا ادارہ نہیں ہے، اور یہ سسٹم نیپرا ایکٹ کی دفعات سے براہِ راست متصادم ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






