اسلام آباد میں جاری ایران-امریکا تاریخی امن مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی

اسلام آباد: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تاریخی امن مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے دو ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور ایجنڈے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات چیت اتوار کو بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔

بتایا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان کئی دہائیوں بعد یہ پہلی براہِ راست اور تفصیلی نشست ہے جس کا مقصد خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔پاکستان ان مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے کی جانے والی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں حریف ممالک کو ایک ہی میز پر لانا ممکن ہوا ہے۔

عالمی سطح پر پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو ’’ناگزیر اور اہم‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ مذاکرات کے بنیادی نکات میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور سیکیورٹی،لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر جاری فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔

اس سے قبل روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اسلام آباد مذاکرات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے قیامِ امن کا ایک بہترین موقع قرار دیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں اور تمام فریقین کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانا چاہیے۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور عالمی میڈیا اس حساس سفارتی مشن کی پل پل کی خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close