ٹرمپ کا اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں ایران پر شدید حملے کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگلے 2 سے 3 ہفتوں کے دوران ایران پر شدید حملے کیے جائیں گے اور ان حملوں کے ذریعے ایران کو ‘پتھر کے زمانے’ میں واپس لے جایا جائے گا، جہاں سے ان کا اصل تعلق ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی ‘آپریشن ایپک فیوری’ کو مکمل اہداف کے حصول تک جاری رکھنے کا غیر مبہم اعلان کیا اور کہا کہ ایران میں فوجی مقاصد کی تکمیل اب بہت قریب ہے۔

صدر نے اپنے سخت موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ یہ آپریشن ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا، امریکی افواج اپنے اہداف کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکی ہیں، تاہم حتمی کامیابی تک دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

امریکی صدر نے آنے والے وقت کو ایران کے لیے انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ “آئندہ 2 سے 3 ہفتوں کے دوران ایران میں مزید شدید اور کاری ضربیں لگائی جائیں گی، اور اگر کوئی ڈیل طے نہ پائی تو ہم ایران میں ہر چیز کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گے۔”

انہوں نے انتہائی تند و تیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ ایران کو ان حملوں کے ذریعے ‘پتھر کے زمانے’ میں واپس بھیج دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تمام اعلیٰ قیادت پہلے ہی ہلاک ہو چکی ہے اور اب جو نیا گروپ سامنے آیا ہے وہ ماضی کے مقابلے میں کم شدت پسند معلوم ہوتا ہے۔

حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی مقصد ‘رجیم چینج’ (حکومت کی تبدیلی) نہیں تھا، لیکن عملی طور پر ایران میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اب پیچھے نہیں ہٹے گا اور اگلے چند ہفتے ایران کی سالمیت اور مستقبل کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ہوں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close