پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں مزید کتنا اضافہ ہونے والا ہے؟ جانئے

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عراق کی سمندری حدود کے قریب دو آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث آئندہ دنوں میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عراقی حکام کے مطابق ملک کے ساحلی علاقوں میں دو غیر ملکی آئل ٹینکروں پر حملے کیے گئے ۔ ان حملوں میں ایک ملاح ہلاک جبکہ 38 سے زائد عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا ۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ان حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ 11 مارچ 2026 کو امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 87.32 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل 91.16 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں بالترتیب 4.64 فیصد اور 3.79 فیصد زیادہ ہے ۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایک موقع پر ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بڑھ کر 94.23 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی برقرار رہی تو تیل 90 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان ٹریڈ کر سکتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ایران کے خاتم الانبیا ملٹری کمانڈ ہیڈ کوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ وہ تیل کا ایک قطرہ بھی امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ان کی طرف جانے والا ہر بحری جہاز یا ٹینکر جائز ہدف ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا کو 200 ڈالر فی بیرل تیل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا ۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close