وفاقی حکومت ٹیکس نظام میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے جس کے تحت تنخواہ دار طبقے کو کچھ ریلیف دینے اور بعض اضافی ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے سپر ٹیکس کے خاتمے اور تنخواہ دار افراد کے انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کو حتمی شکل دینے سے قبل حکومت آئندہ ہفتے آئی ایم ایف سے مشاورت کرے گی۔ وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا جنہیں عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے پیش کیا جانا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ٹیکس حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ نجی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کریں تاکہ تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے ۔
حکومتی حلقوں کے مطابق زیر غور منصوبوں میں امیر افراد اور کارپوریٹ سیکٹر پر عائد سپر ٹیکس کو ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیادہ آمدنی رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد کم کر کے 30 فیصد تک لانے اور اس سلیب کی حد بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔
ابتدائی طور پر حکومت ٹیکسوں میں تقریباً 1.5 سے 1.8 کھرب روپے تک کمی کرنے کی خواہاں تھی، تاہم معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اس قدر بڑی رعایت ملنا مشکل ہو سکتا ہے ، خاص طور پر اس وقت جب ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔
معاشی تجزیہ کار ساجد امین کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران براہ راست ٹیکسوں میں ہونے والے اضافے کا بڑا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈالا گیا، جبکہ ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ جیسے بااثر شعبے اب بھی بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں یا نسبتاً کم شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق حکومت پراپرٹی سیکٹر پر عائد ایک فیصد ڈییمڈ انکم ٹیکس میں کمی اور برآمدات پر لگایا جانے والا ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کر رہی ہے، تاہم ان اقدامات کے لیے بھی آئی ایم ایف کی منظوری ضروری ہوگی ۔
ایف بی آر کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ، یعنی جولائی سے جنوری تک، تنخواہ دار افراد نے 315 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 285 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 10.5 فیصد زیادہ ہے ۔
اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیا گیا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی ادائیگیوں سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی مجموعی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 16.2 کھرب روپے تک لے جانے کا خواہاں ہے جو کہ ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 11.7 فیصد کے برابر بنتا ہے، جبکہ ایف بی آر کا تخمینہ ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک وصولیاں تقریباً 13.2 سے 13.5 کھرب روپے کے درمیان رہ سکتی ہیں ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






