اسلام آباد: توانائی کی بچت کے لیے قومی ایکشن پلان کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جو آج وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں تیل کی سپلائی میں تعطل اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے سخت اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے صوبائی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ قومی ایکشن پلان حتمی شکل دے دیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق اس پلان میں کووڈ-19 کے دوران استعمال ہونے والے طریقوں کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز ہے، جس میں اسکول اور یونیورسٹیاں بند کر کے تعلیمی سلسلہ دوبارہ آن لائن منتقل کرنا، ‘ورک فروم ہوم’ (ریموٹ ورک) اور کار پولنگ شامل ہیں ۔ خیال رہے کہ صحت سے متعلق پابندیوں کے علاوہ کووڈ دور کے بیشتر اقدامات کو اگلے ہفتے سے بحال کیا جا سکتا ہے ۔
اس کے علاوہ 8 مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا آغاز بھی کیا جائے گا تاکہ بیمہ، فریٹ اور جنگی پریمیم جیسے اضافی اخراجات کو صارفین تک منتقل کیا جا سکے ۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس آج ہوگا، جس میں اس قومی ایکشن پلان کا ابتدائی مسودہ زیر غور آئے گا۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد یہ مسودہ ای سی سی کو باضابطہ منظوری اور نفاذ کے لیے پیش کیا جائے گا ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





