عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے ایک نئی تشویش سامنے آگئی ہے، جہاں ایرانی قیادت نے ممکنہ اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ ایران کی پارلیمانی قیادت نے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے صورتحال کو غیر یقینی قرار دے دیا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ تین دن گزرنے کے باوجود کسی بھی کنویں میں کوئی دھماکہ یا غیر معمولی صورتحال سامنے نہیں آئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس مدت کو مزید 30 دن تک بڑھایا جا سکتا ہے اور کنوؤں کی صورتحال براہ راست نشر بھی کی جا سکتی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایران کی بحری ناکہ بندی کا مقصد ملک کو کمزور کرنا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ۔ انہوں نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اعلان کیا کہ جمعہ کو تیل کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں ۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






