واشنگٹن مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کی جنگ بھی عروج پر ہے، جس میں ایکسپلوسِو میڈیا نامی ایک چینل نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، تاہم یوٹیوب نے اس چینل کو معطل کر دیا ہے۔ غیرملکی میڈیاپرپورٹس کے مطابق یہ چینل مبینہ طور پر ایران سے منسلک سمجھا جاتا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے لیگو طرز کی ویڈیوز تیار کرتا تھا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور ایرانی بیانیے کو فروغ دیا جاتا تھا۔ایکسپلوسِو میڈیا کا کہنا ہے کہ یوٹیوب نے ان کا چینل پرتشدد مواد کے الزام میں بند کیا ہے، حالانکہ لیگو اسٹائل اینیمیشنز میں ایسا کوئی مواد شامل نہیں تھا۔یہ پابندی اس وقت سامنے آئی جب چینل کی ایک حالیہ ویڈیو، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور مبینہ طور پر ایپسٹین فائلز سے متعلق موضوع پر ریپ سانگ پیش کیا گیا، سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز حاصل کر چکی تھی۔ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ویڈیوز براہ راست پرتشدد نہیں لگتیں، تاہم یہ ایرانی بیانیے کا حصہ ہو سکتی ہیں، جس کی بنیاد پر یوٹیوب نے کارروائی کی ہو۔اگرچہ اس پر یوٹیوب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم یہ لیگو ویڈیوز دیگر پلیٹ فارمز جیسے ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر اب بھی دستیاب ہیں اور لاکھوں افراد تک پہنچ رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ مواد ناصرف ایران کے موقف کو آسان انداز میں پیش کرتا ہے بلکہ امریکی معاشرے میں پائے جانے والے اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ویڈیوز خاصی مقبول ہو رہی ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






