امریکہ اور ایران کی جانب سے امن مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کو امریکہ کے ’غیر معقول مطالبات‘ نے متاثر کیا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایرانی وفد کی مختلف تجاویز کے باوجود، امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا باعث بنے۔ یوں بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔‘
دوسری جانب، امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نے کافی ’لچک‘ اور ’روا داری‘ کا مظاہرہ کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ہدایت کی تھی کہ ’یہاں نیک نیتی سے آئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ہم نے یہی کیا، مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سک۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’انتہائی سادہ تجویز—ایک فریم ورک—پیش کرکے جا رہے ہیں، جو ہمارا آخری اور بہترین مؤقف ہے۔‘
فی الحال واضح نہیں کہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے آئندہ مراحل کیا ہوں گے اور آیا فریقین میں مزید بات چیت ہوگی یا نہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






