روس اور یورپی ممالک مابین یوکرین تنازعے کے حوالے سے اہم پیش رفت

پیرس (آئی این پی)کئی عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد، روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔پیرس میں روس، یوکرین، فرانس اور جرمنی کے مشیران کے طویل مذاکرات ہوئے، روسی مشیر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے لیکن یوکرین کے مسئلے کا مستقل حل ایک اجلاس سے نہیں نکالا جاسکتا۔روسی مشیر نے بتایا کہ چاروں ممالک کی ایک اور میٹنگ دو ہفتوں میں برلن میں ہو گی، ساتھ ہی روس نے نیٹو سے مشرقی یورپ سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یوکرین کی نیٹو میں شمولیت بھی روکی جائے، روس کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ اور نیٹو نے روس کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔تاہم ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔دو روز قبل روس نے یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی مشقوں کی ویڈیو جاری کی تھی، روسی فوجی ٹینکوں اور میزائل لانچرز سمیت مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کے محاذ پر لگی آگ کو بجھانے کی کوشش، روس اور یوکرین کے وفود کی پیرس میں ملاقات ہوئی، جرمنی اور فرانس کے نمائندے بھی موجود تھے، کیف نے چار ممالک کے درمیان مذاکرات امن کی جانب بڑا قدم قرار دیا۔روس نے مزید لڑاکا طیارے جنگی مشقوں کے لئے بیلاروس روانہ کر دئیے جن میں SU-35، فائٹر جیٹس سمیت ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم بھی شامل ہیں۔ماسکو نے ملک کے شمالی علاقے میں بحری مشقوں کا آغاز کر دیا، بحر منجمد شمالی میں ہونے والی مشقوں میں روس کے تیس جنگی جہاز 20 لڑاکا طیارے اور ایک ہزار سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اپنے طور پر یوکرین افواج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا، امریکی طیارے اسلحہ کی تیسری کھیپ لے کر کیف پہنچ گئے۔ واشنگٹن نے تمام شہریوں سے یوکرین چھوڑنے کی اپیل بھی کی، پینٹاگون نے لتھوانیہ ایئر بیس میں مزید چھ ایف 15 لڑاکا طیارے تعینات کر دئیے۔ جرمنی کے صرف پانچ ہزار جنگی ہیلمٹ دینے کے اعلان پر یوکرین نے سخت ناگواری کا اظہار کیا ہے، برلن نے کیف کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔یوکرین میں تعینات جاپانی سفیر نے کہا ہے کہ جنگ کا امکان بہت کم ہے،البتہ علاقائی سطح پر جھڑپوں کا امکان موجود ہے۔۔۔۔۔