کورونا کی نئی پابندیاں، یورپ کے بڑے شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے، پولیس سے جھڑپیں شروع ہو گئیں

لندن (پی این آئی) یورپ کے متعدد شہروں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک بار پھر لگائی جانے والی پابندیوں کے خلاف مظاہروں کی شدید لہر پھوٹ پڑی ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز، نیدرلینڈز کے بعض شہروں اور فرانسیسی کریبین علاقے گواڈالوپ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔آسٹریا میں مظاہروں کی نئی لہر دیکھنے میں آئی، جہاں حکومت نیا لاک ڈاؤن نافذ کر رہی ہے اور کورونا وائرس کی ویکسین لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ آج سے آسٹریا میں 29 لاکھ افراد کو دفتر جانے،

ورزش کرنے اور اہم اشیا خریدنے کے لیے گھر سے نکلنے کے سوا کسی اور مقصد کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ملک میں کورونا وائرس کی ویکسین اگلے سال یکم فروری سے لازمی قرار دے دی جائے گی۔ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں کورونا وائرس کو روکنے کے اقدامات کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ اس مظاہرے میں 35 ہزار افراد شریک تھے۔

برسلز میں ہونے والا یہ مظاہرہ خاص طور پر اس پابندی کے خلاف تھا جس کے تحت غیر ویکسین شدہ افراد کا ریستوران اور بارز جیسی جگہوں پر داخلہ ممنوع ہے۔ اتوار کو نیوزی لینڈ کے کچھ شہریوں میں بھی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یہ حکومت کی کورونا وائرس کے خلاف نافذ کی جانے والے پابندیوں کے خلاف نیدرلینڈز میں مظاہروں کی تیسری رات تھی۔پولیس کے مطابق مظاہرین نے پٹاخے جلائے اور ملک کے شمالی، جنوبی اور مشرقی شہروں میں املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔۔۔۔۔