انہوں نے کہا کہ کراچی کی تھوک وخوردہ مارکیٹوں میں آٹا مزید مہنگا ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے، کراچی کی فلور ملوں کو سرکاری گندم کی ترسیل بروقت نہ ہونے سے متعلق تفصیلات سے بھی کمشنر کراچی کو آگاہ کر دیا گیا۔
عبدالجنید کے مطابق فلور ملوں کو گندم کی بروقت ترسیل کیلئے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی اہم ملاقات ہوئی ہے، سرکاری گندم وقت پر نہ ملنے سے بھی آٹے کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں، پرانی سرکاری گندم کے نرخ 80 روپے فی کلو اور اس میں شامل کی جانے والی نئی گندم کی قیمت 110 روپے فی کلوگرام ہے۔
لہٰذا تھوک مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی سستی نہیں ہو سکتی جبکہ ریٹ کا تعین خودساختہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب سے ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے کہا ہے کہ کمشنر کراچی آٹے کی قیمتوں کی نئی فہرست کا اجرا اگرچہ آئندہ ایک سے دوروز میں کریں گے، لیکن اوپن مارکیٹ میں گزشتہ 4ماہ کے دوران فی کلوگرام آٹا 55 روپے سے بڑھ کر 110 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔
سندھ کی گندم کے پی کے اور بلوچستان جا رہی ہے لہٰذا ڈیمانڈ بڑھنے کی صورت میں اوپن مارکیٹ میں فی کلو گندم 110 سے 125 روپے ہوجائے گی۔
رؤف ابراہیم نے کہا کہ کراچی میں فائن آٹے کی قیمت بڑھ کر 145روپے تک پہنچنے کاخدشہ ہے۔
کراچی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران ختم نہیں ہوسکا ہے اور اب سرکاری گندم کی ترسیل میں ہونے والی تاخیر کے باعث آٹا مزید مہنگا ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری گندم غذائیت سے خالی ہے، جسے نئی گندم کے ساتھ مکس کر کے جو آٹا تیار کیا جا رہا ہے وہ اپنی قیمت کے لحاظ سے عوام کی دسترس سے باہر ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو گندم فراہم کرنے میں تاخیر نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
عبدالجنید نے مزید خبردار کیا ہے کہ کراچی کی تھوک اور خوردہ مارکیٹوں میں آٹا مزید مہنگا ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہیں، اور فلور ملوں کو سرکاری گندم کی بروقت ترسیل نہ ہونے کے حوالے سے تمام تفصیلات سے کمشنر کراچی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گندم کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری گندم وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے آٹے کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں، اس وقت پرانی سرکاری گندم کے نرخ 80 روپے فی کلو ہیں جبکہ اس میں شامل کی جانے والی نئی گندم کی قیمت 110 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے تھوک مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی سستی ہونا ممکن نہیں رہا اور ریٹ کا تعین خودساختہ طور پر ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے کہا ہے کہ اگرچہ کمشنر کراچی آئندہ ایک سے دو روز میں آٹے کی قیمتوں کی نئی فہرست جاری کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اوپن مارکیٹ میں گزشتہ 4 ماہ کے دوران فی کلوگرام آٹا 55 روپے سے بڑھ کر 110 روپے کی سطح پر آ چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کی گندم خیبر پختونخوا اور بلوچستان جا رہی ہے، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر طلب بڑھنے کی صورت میں اوپن مارکیٹ میں فی کلو گندم 110 سے بڑھ کر 125 روپے تک ہو جائے گی۔ رؤف ابراہیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ کراچی میں فائن آٹے کی قیمت بڑھ کر 145 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






