پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوری طور پر دشمنیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی قائم کی جائے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔

سلامتی کونسل میں 1737 کمیٹی (ایران) پر بریفنگ کے موقع پر پاکستانی سفیر نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام کوششیں اسی سمت میں مرکوز ہیں۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ گزشتہ سال جولائی میں سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2788 منظور کی تھی جس میں تمام تنازعات کے پرامن ذرائع سے حل کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر منشور اقوام متحدہ اور اس قرارداد کی روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہو گا تاکہ موجودہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قابو پایا جا سکے۔

پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل اب بھی 1737 کمیٹی کے معاملے پر منقسم ہے، جس کے باعث ذیلی اداروں کے چیئرمینوں کی تقرری پر اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا اور ان اداروں کے کام پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ جون کے بعد ہونے والی پیش رفت اور ایران پر بلا اشتعال اور بلاجواز حملوں سے شروع ہونے والی موجودہ صورت حال نے ایران کے جوہری معاملے کے تناظر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایران کے جوہری معاملے پر سفارت کاری کے تعطل نے ایک ایسے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ یہ بات واضح ہے کہ پائیدار حل آزمودہ اصولوں کو اپنانے میں مضمر ہے، نہ کہ انہیں ترک کر کے قلیل النظر پالیسیوں کو اختیار کرنے میں۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ کمپریہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) ایک منفرد معاہدہ تھا جو مکالمے، سفارت کاری اور عملیت پسندی پر مبنی تھا اور پاکستان نے اس مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کی تھی، اور آج بھی یہی ہمارا بنیادی مؤقف ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ مکالمہ، سفارت کاری اور تعمیری روابط ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہیں، لیکن افسوس کہ سفارت کاری کو ترک کر کے عسکری ذرائع کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے طاقت کے ہر استعمال، شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے، اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ IAEA کو اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے کے قابل بنایا جانا چاہیے اور ایران میں اس کی تصدیقی سرگرمیوں کو بلا رکاوٹ دوبارہ شروع ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایران کے جوہری مسئلے کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری اور مکالمہ تمام متنازع امور کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے رہنما اصول ہونے چاہئیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close