عدالت نے فواد چوہدری کی ضمانت کی درخواست پر تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

پی این آئی کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ۔

اسلام آباد (پی این آئی )رہنما تحریک انصاف اور سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کی مشروط ضمانت منظور ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق سیشن عدالت کے جج فیضان گیلانی نے کہا کہ اس شرط پر ضمانت دے رہا ہوں کہ فواد چودھری یہ گفتگو دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ عدالت نے رہنما تحریک انصاف کو 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ضمانت منظور کی۔نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق اسلام آباد کی مقامی عدالت میں فو اد چودھری کیس کی سماعت ہوئی ،

جس میں وکیل بابر اعوان نے فواد چودھری کے خلاف درج ایف آئی آر پڑھ کر سنائی، بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری پر ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے کی دفعہ شامل کی گئی، الیکشن کمیشن ریاست یا حکومت نہیں بلکہ محض ایک اتھارٹی ہے، دفعہ تو قتل کی بھی لگائی جا سکتی ہے لیکن کیس میں لگائی گئی دفعات بنتی ہی نہیں، فواد چودھری کی درخواست ضمانت منظور کی جائے۔بغاوت کی دفعات پر آئینی عدالتوں کے بہت کم فیصلے موجود ہیں،

بغاوت کے مقدمات کا موسم آیا تو ہائیکورٹ کے ایسے دو فیصلے آئے ہیں، قوم اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ 2 لفظ بولنے پر کسی پر یہ دفعات لگا دی جائیں۔عدالت میں جج نے ریمارکس دئیے کہ فواد چودھری کی آدھی گفتگو تو تنقید کی حد تک ہے، عوام اُنکو اُنکے گھروں تک چھوڑ کر آئیں گے اسکا کیا مطلب ہے؟ بابر اعوان نے جواب دیا کہ یہ ایک محاورہ ہے کہ گھر تک چھوڑ کر آئیں گے، جج نے استفسار کیا کہ فواد چودھری سینئر وکیل ہیں ان سے لاعلمی کی توقع تو نہیں کی جا سکتی۔

بابر اعوان نے کہا کہ فواد چودھری کی گفتگو پر کوئی کیس نہیں بنتا ہے، جج نے سوال کیا کہ آپکو معلوم ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی کیا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ فواد چودھری کی گفتگو غیر ضروری تھی لیکن مقدمہ نہیں بنتا، جج نے پھر سوال کیا کہ آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ کسی لیڈر کی ایسی گفتگو پر ردعمل نہیں آئے گا؟ اس سے پہلے ایک خاتون جج سے متعلق جو الفاظ کہے گئے وہ بھی سامنے ہے، کیا اس کیس میں بھی بعد میں معافی مانگیں گے؟ ایسی کوئی بات کیا ہی نہ کریں جس پر بعد میں معافی مانگنی پڑے۔

close