مجھے پتہ ہے کہ پوری سازش کس طرح ہوئی ہے لیکن ملک کو نقصان نہ پہنچے اس لیے میں چپ رہتا ہوں، عمران خان

اسلا م آباد(پی این آئی)عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے پتہ ہے کہ پوری سازش کس طرح ہوئی ہے لیکن ملک کو نقصان نہ پہنچے اس لیے میں چپ رہتا ہوں لیکن مجبور کیا گیا تو چپ نہیں رہوں گا۔

 

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ پوری سازش کس طرح ہوئی، اس سازش میں کون کون سے کردار مجبور ہیں، ملک کو نقصان نہ پہنچے اس لیے میں چپ رہتا ہوں لیکن اگر ہراساں اور خوفزدہ کیا گیا تو چپ نہیں رہوں گا اور قوم کو سب کچھ بتانے پر مجبور ہوجاؤں گا۔عمران خان نے کہا کہ مجھ سمیت ساری قیادت پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے ہیں، مقدمات اس لیے درج کیے جا رہے ہیں کہ ہم خاموش رہیں، میں نے ایک ویڈیو بنائی ہوئی ہے جس میں ہے کہ کس نے سازش میں کیا کیا کردار ادا کیا یہ ویڈیو محفوظ مقام پر ہے اگر مجھے کچھ ہوا تو وہ سامنے آجائے گی۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2 ماہ میں فیصلہ نہ ہوسکا کہ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ ہوسکتا یا نہیں، پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ہر جگہ سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ انہیں جتوانے کیلیے انتظامیہ ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے، اندرون سندھ میں جس طرح الیکشن ہوئے سب کے سامنے ہیں، وہاں جاکر معلوم کریں کس طرح پولیس استعمال کی گئی، میرا پیغام ہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں گھروں سے باہر نکل کر ووٹ دیں۔

 

ہم نے انہیں ان کی دھاندلی کے باوجود ہرانا ہے، ساری قوم کو فاشسٹ ہتھکنڈو ں کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہماری پوری تاریخ پرامن احتجاج کی ہے، لیکن 25 مئی کو بربریت کی گئی، گولیاں برسائی گئیں، عدلیہ سے احترام سے پوچھتا ہوں کیا پاکستان میں انسانی حقوق معطل ہوگئے ہیں؟ یہ ڈرانے اور دھمکانے کا سارا فاشسٹ طریقہ چوروں کو مسلط کرنے کے لیے ہے، لیکن ساری قوم کو کہنا چاہتا ہوں ہر دور میں یزید آتے ہیں تمام اداروں سے درخواست ہے کہ یہ ایک فیصلہ کن وقت ہے، خوف کے بت کے سامنے جھک گئے تو یہ ملک کے ساتھ بہت برا کریں گے،عوام بھی خوفزدہ ہوگئے تو ملک تباہ ہوجائے گا۔ یہ حقیقی آزادی جنگ ہے اور سب کو اس میں شریک ہونا ہے، یہ سیاست نہیں ہورہی حقیقی آزادی کے لیے جہاد کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 80 کی دہائی میں پاکستان برصغیر میں سب سے آگے تھا، 90 کی دہائی میں یہ لوگ آئے تو پاکستان پیچھے جانے لگا، ان دو خاندانوں کی وجہ سے بنگلا دیش بھی ہم سے آگے نکل گیا،30 سے ملک لوٹنے والے آج دندناتے پھر رہے ہیں، نواز شریف واپسی کی تیاری کر رہا ہے جب کہ مریم پنجاب میں مہم چلارہی ہے، یہ لوگ پورے ملک کا نظریہ، قانون کی حکمرانی اور ادارے تباہ کر رہے ہیں، جنہوں نے سازش کی ان کو سوچنا چاہیے عوام دوسری طرف کھڑے ہیں، عوام سازش سے لائی گئی حکومت کو قبول نہیں کررہی۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ روس سے تیل نہیں لیں گے کہ امریکا ناراض نہ ہوجائے، کیونکہ امریکا ناراض ہوا تو باہر پڑا ان کا پیسہ خطرے میں پڑجائے گا اور انکا نظریہ پاکستان نہیں پیسہ ہے، پیسے کی خاطر تو یہ لوگ کشمیروں کی قبروں کا بھی سودا کرلیں گے، ان کو موقع ملے تو یہ اسرائیل کو بھی تسلیم کرلیں گے۔

 

یہ ہمارے بیسز بھی امریکا کو دیدیں گے اور ان کی جنگ میں شامل ہوجائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ اس حکومت نے ہر جگہ خوف پھیلایا ہوا ہے، صحافیوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں ان کو ڈرایا جارہا ہے، ان لوگوں نے ارشد شریف پر ایف آئی آر کٹوا دی، ارشد شریف کے خاندان کا فوجی بیک گراؤنڈ ہے، اس کے ضمیر کی کوئی قیمت نہیں اسے ہراساں کیا جارہا ہے، صابر شاکر 30 سال سے صحافت کر رہا ہے اس کو ہراساں کرکے ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا، سمیع ابراہیم ، صابر شاکر، معید پیرزادہ سمیت متعدد صحافیوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، عارف حمید بھٹی اور جمیل فاروقی کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے ارسلان کے گھر میں چلے گئے اور وہاں ڈراما کیا، یہ لوگ جمیل فاروقی اور عدنان عادل کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایاز امیر کو 30 سال سے جانتا ہوں، سب جانتے ہیں ایاز امیر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا وہ ضمیر کی آواز سنتا ہے، ایاز امیر نے ہمیشہ مجھ پر بہت تنقید کی لیکن میں ان کا احترام کرتا ہوں، ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ پوری قوم کیلیے شرمناک اور باقی صحافیوں کیلیے پیغام ہے۔پی ٹی آئی سربراہ نے مزید کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرکے ان کا منہ بند کیا جارہا ہے، ملک میں ہمارا میڈیا پر بلیک آؤٹ کیا جارہا ہے، کسی کا خیال ہے کہ چینل کو پیسے دیکر یا ڈرا دھمکا کر روک لیں گے تو وہ وقت گزر گیا، یہ بتائیں سوشل میڈیا کا منہ کیسے بند کریں گے، یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اب کسی خبر کو روکا نہیں جاسکتا۔