”10سال بطور خادم اعلیٰ پنجاب تنخواہ نہیں لی جو 60کروڑ روپے بنتی تھی اور۔۔۔“ شہباز شریف کا عدالت میں پیش ہو کر بیان

لاہو ر(پی این آئی)لاہو ر کی سپیشل کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف روسٹرم پر آگئے ، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے تمام اثاثے ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خدانخواستہ میں نے کرپشن کی ہوتی تو اس عدالت کے سامنے پیش نہ ہوتا،میرے تما م اثاثے ایف بی آرمیں رجسٹرڈ ہیں ،تحقیقات میں کرپشن کاایک روپیہ بھی ثابت نہیں ہوا۔وزیر اعظم کی ہدایت پر برطانیہ میں میرے خلاف تحقیقات کرائی گئیں

لیکن کچھ نہیں ملا۔وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ میرے خلاف کرپشن کے سیاسی کیس بنائے گئے ،این سی اے نے پونے 2 سال تحقیقات کیں،2004میں ملک واپس آیا میرے پاس حرام کا پیسہ ہوتا تو ملک واپس ہی کیوں آتا؟برطانیہ میں رہتا تھا وہاں کشکول تو نہیں اٹھاتا تھا وہاں کاروبار کرتا تھا، سرکاری گاڑی میں پٹرول اپنی جیب سے ڈلواتا ہوں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 10سال بطور خادم اعلیٰ پنجاب تنخواہ نہیں لی، جو کہ 60کروڑ روپے بنتی ہے ،ان کا مزید کہناتھا کہ سرکاری دورے بھی اپنے خرچے پر کیے ۔