پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل ٹیرف، سروس کے معیار اور غیر مجاز کٹوتیوں سے متعلق سوشل میڈیا پر زیر گردش خدشات کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ ادارہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مکمل طور پر متحرک اور پرعزم ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ منظم اور متوازن ٹیرف نظام کے پیش نظر پی ٹی اے نے موبائل ٹیرف ریگولیشنز 2025 نافذ کر دیے ہیں، ان ضوابط کے تحت نمایاں مارکیٹ پاور (SMP) رکھنے والے آپریٹرز کسی بھی نئے پیکج کے اجرا یا موجودہ نرخوں میں تبدیلی سے قبل پی ٹی اے سے پیشگی منظوری کے پابند ہیں۔ دیگر آپریٹرز کاروباری بنیادوں پر نرخ مقرر کر سکتے ہیں، تاہم اگر کوئی ٹیرف صارفین کے مفاد کے خلاف پایا گیا تو پی ٹی اے کو مداخلت کا مکمل اختیار ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی اے صارفین کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ٹیلی کام مارکیٹ کے پائیدار استحکام کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں اوسط فی صارف آمدن (ARPU) خطے میں کم ترین سطح پر ہے جبکہ موبائل ڈیٹا کی قیمتیں بھی علاقائی سطح پر انتہائی مناسب شمار کی جاتی ہیں۔
سروس کے معیار میں بہتری کے لیے پی ٹی اے کی جانب سے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں مارچ 2025 میں متوقع اسپیکٹرم کی نیلامی ایک اہم پیش رفت ہے جس کے تحت موبائل آپریٹرز کو اضافی اسپیکٹرم کے حصول اور جدید نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں کوریج، نیٹ ورک کارکردگی اور ڈیٹا اسپیڈ میں واضح بہتری متوقع ہے۔
تمام موبائل آپریٹرز کو بھی ہدایت جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ کسی بھی ویلیو ایڈڈ سروس کو فعال کرنے سے قبل صارفین کی واضح اور پیشگی رضامندی حاصل کریں۔ صارفین کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ موبائل آپریٹر کی سرکاری ایپ کے ذریعے اپنی فعال سبسکرپشنز کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
مزید کہا گیا کہ پی ٹی اے ایک شفاف، منصفانہ اور ذمہ دارانہ ریگولیٹری ماحول کے فروغ کے لیے کوشاں ہے تاکہ ٹیلی کام صارفین کے حقوق کے تحفظ اور ٹیلی کام کے شعبے کی طویل المدتی ترقی کے لیے درکار سرمایہ کاری کے مابین متوازن ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






