سلمان علی آغا کے معاملے پر ایم سی سی کا دو ٹوک فیصلہ

بنگلا دیش کے خلاف شیرِ بنگلا نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے کے دوران پاکستان کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر Marylebone Cricket Club (ایم سی سی) نے وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے۔

ایم سی سی کے مطابق قوانین کے تحت سلمان علی آغا واضح طور پر آؤٹ تھے، کیونکہ وہ کریز سے باہر موجود تھے اور گیند ابھی بھی کھیل میں تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی بیٹر کو فیلڈنگ ٹیم کی اجازت کے بغیر گیند کو ہاتھ لگانے یا اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ایم سی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ کھلاڑیوں کے درمیان ٹکراؤ یا رابطہ ہونے سے گیند خود بخود ڈیڈ نہیں ہو جاتی، اس لیے کھیل جاری تصور کیا جاتا ہے۔ ادارے نے اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی کہ اگرچہ “اسپرٹ آف کرکٹ” کے تحت بنگلا دیشی ٹیم اپیل واپس لے سکتی تھی، لیکن قوانین کے مطابق آن فیلڈ امپائرز کے پاس سلمان آغا کو آؤٹ دینے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔

اصل واقعہ کیا تھا؟
یہ واقعہ ڈھاکا میں کھیلے گئے میچ کے 39ویں اوور میں پیش آیا، جب سلمان علی آغا 62 گیندوں پر 64 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔ محمد رضوان نے گیند سیدھی بولر کی طرف کھیلی، اور اسی دوران آغا کریز سے باہر نکل آئے۔ بولر مہدی حسن میراز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے گیند اٹھائی اور نان اسٹرائیکر اینڈ پر وکٹیں گرا دیں، جس کے نتیجے میں آغا رن آؤٹ قرار پائے۔

آؤٹ ہونے پر سلمان آغا نے میدان میں شدید غصے کا اظہار کیا، جبکہ بنگلا دیشی وکٹ کیپر لٹن داس بھی اس صورتحال پر ناخوش دکھائی دیے۔ تاہم محمد رضوان، امپائرز اور دیگر کھلاڑیوں نے مداخلت کر کے معاملہ ٹھنڈا کیا۔ بعد ازاں، اس واقعے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سلمان علی آغا پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ عائد کیا اور میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ بھی کیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close