پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ بوم بوم کے مطابق یہ فیصلہ انہوں نے چند ذاتی وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔
اسلام آباد میں اپنی نئی رہائش گاہ پر روزنامہ جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، جمہوری عمل کا تسلسل اور ریاستی اداروں میں آئینی مدت کی تکمیل نہایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ادارے اپنی مدت پوری کرتے ہیں تو پالیسیاں برقرار رہتی ہیں اور ترقی کے ثمرات جلد عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو تیزی سے ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، مگر اس کے لیے سب سے بنیادی عنصر تسلسل ہے۔ عدم استحکام ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔
سیاست میں شمولیت کے سوال پر شاہد آفریدی نے واضح کیا کہ فی الحال ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کرکٹ نے انہیں دنیا بھر میں عزت، مقام اور شناخت دی، اب ان کی خواہش ہے کہ وہ کرکٹ اور ملک کو کچھ واپس لوٹا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنی چاہیے اور چیف جسٹس، آرمی چیف سمیت تمام اہم آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو بھی اپنی مقررہ مدت پوری کرنے دی جانی چاہیے۔
حکومتی عہدوں کی پیشکش کے حوالے سے شاہد آفریدی نے انکشاف کیا کہ ماضی میں انہیں اہم سرکاری عہدوں کی پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے ہمیشہ ایسی ذمہ داریوں سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض رسمی عہدے ان کے لیے کسی کشش کا باعث نہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






