کراچی کے مائی کلاچی روڈ پر واقع مین ہول سے چار لاشیں ملنے کے دلخراش واقعے میں نئی پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
مقتولہ انیلہ کے لواحقین تفتیش کے لیے ڈاکس پولیس اسٹیشن پہنچ گئے، جہاں اہلِ خانہ نے اہم انکشافات کیے۔ مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے پولیس کو بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور انیلہ سے آخری بار ایک ہفتہ قبل فون پر بات ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ متعدد بار بہن کے گھر گئے تو ہر بار مکان کو تالہ لگا ہوا پایا، حتیٰ کہ دو روز قبل بھی یہی صورتحال تھی۔
مصطفیٰ کے مطابق 30 دسمبر کے بعد سے انیلہ کا موبائل فون مسلسل بند تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھائی سال قبل انیلہ کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی تھی، جس کے بعد وہ اکیلے ہی اپنے بچوں کی کفالت کر رہی تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ایک بھانجی اور دو بھانجے زیرِ تعلیم تھے، اور مطالبہ کیا کہ اس سفاکانہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز مین ہول سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں ایک مرد، دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ریسکیو حکام کو علاقہ مکینوں نے مین ہول میں لاش کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ جب ریسکیو اہلکاروں نے لاش نکالی اور اندر رکھے پتھر ہٹائے تو مزید تین لاشیں سامنے آئیں۔ واقعے کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






