آج پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے حکومت کی جہاز خریداری کا معاملہ ایوان میں اٹھایا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے ارکان اسمبلی کے سوالات کے جوابات دیے۔
اجلاس میں محکمہ اطلاعات و ثقافت سے متعلق سوالات کیے گئے جن میں باب پاکستان کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کی گئی۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ باب پاکستان ایک فکری منصوبے کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اگر مزید تفصیلی جواب درکار ہو تو سوال دوبارہ بھیجا جائے۔
رکن اسمبلی امجد علی جاوید کے سوال پر پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے دفتر کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پریس کلب سوسائٹی میں کمرشل جگہ کو استعمال کیا جائے گا اور جلد پی جے ایچ ایف کا دفتر وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلے میرٹ کے بغیر بھرتیاں کی جاتی تھیں، تاہم اس سال اداروں کی اوور ہالنگ کی جائے گی اور جن اسامیوں کی ضرورت ہوگی انہیں برقرار رکھا جائے گا جبکہ غیر ضروری اسامیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ عابد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے خریدے گئے جہاز کے بارے میں سوال کا مناسب جواب نہیں ملا اور پوچھا کہ کیا جہاز راجن پور کے دورے کے لیے استعمال ہوگا۔ اس پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری سندھ حکومت کا ہیلی کاپٹر اور جہاز استعمال کر سکتے ہیں تو پنجاب حکومت کا جہاز بھی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔
شازیہ عابد نے مزید کہا کہ اگر کسی مہمان کو جنوبی پنجاب کا دورہ کرنا ہو تو کیا گیارہ ارب روپے مالیت کا جہاز دستیاب ہوگا۔ اپوزیشن ارکان نے جہاز کے سوال پر ڈیسک بجا کر شور شرابہ بھی کیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






