کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی پولیس افسر راجہ مسعود کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ آرام باغ میں درج کیا گیا، مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جس میں 30 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمہ متن میں لکھا گیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے برنس روڈ پر احتجاج کیا جا رہا تھا، اس دوران مظاہرین نعرے بازی کر رہے تھے، جب پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس پر حملہ کر دیا۔
مزید لکھا گیا کہ مظاہرین کے پتھراؤ سے دو ایس ایچ اوز سمیت چار پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ موقع سے گولیوں کے خول، پندرہ ڈنڈے، پتھر اور 79 گیس شیل ملے ہیں۔
مظاہرین کے حملے سے پولیس موبائل کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوئے تو پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ روز جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آ گئے تھے، کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تھی جس پر رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا۔
پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس کے باعث ایک کارکن زخمی ہو گیا تھا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






