کراچی: گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شہر کے اہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں خریدار آتے تھے اور تھوک کا کاروبار بھی ہوتا تھا۔ بدقسمتی سے یہ عمارت چند گھنٹوں میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئی۔

آتشزدگی کی اصل وجوہات تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گی، تاہم ابتدائی معلومات سے چند بے ضابطگیاں عیاں ہوتی ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دستاویزات کے مطابق گل پلازہ 1980 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ 1998 میں عمارت میں اضافی منزل بنائی گئی، پارکنگ ایریا میں دکانیں تعمیر کی گئیں اور چھت کو پارکنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ 2003 میں اس اضافی منزل کو ریگولرائز کیا گیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق نقشے میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی اور 1021 دکانوں کی تعمیر منظور تھی، لیکن عملاً عمارت میں 1200 دکانیں بنائی گئیں۔ نقشے کے برعکس 179 اضافی دکانیں تعمیر کی گئیں، جبکہ راہداریوں اور باہر نکلنے کے راستوں پر بھی دکانیں بنائی گئیں۔

یہ بے ضابطگیاں ممکنہ طور پر لوگوں کے لیے نکاسی کا راستہ مشکل بنا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں آتشزدگی کے دوران بھاری جانی نقصان ہوا۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا تعین کرے گی کہ آگ پر قابو کیوں نہ پایا جا سکا اور لوگ محفوظ طریقے سے عمارت سے باہر کیوں نہ نکل سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close