شہر قائد میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اہلِ خانہ شدید ذہنی کرب اور پریشانی کا شکار ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں شہر کے مختلف ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ان متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے پیاروں سے گزشتہ رات تک رابطہ برقرار تھا لیکن اب ان کے موبائل فون بند جا رہے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک بزرگ شہری نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ پلازے میں ان کے دو بیٹے اور ایک بھتیجا کام کرتے ہیں جن سے تاحال کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
دوسری جانب سول ہسپتال کے برن سینٹر کے باہر بھی متاثرہ افراد کے اہلخانہ کی ایک بڑی تعداد جمع ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی افراد اب بھی آگ کی زد میں آئی ہوئی عمارت کے اندر موجود ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ رات ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی اس آگ پر طویل وقت گزرنے کے باوجود تاحال مکمل قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد کی جانیں جا چکی ہیں جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ عمارت کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے تین حصے اب تک زمین بوس ہو چکے ہیں، جبکہ کئی افراد کے اب بھی اندر پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس وقت سندھ رینجرز اور پاک بحریہ سمیت تمام متعلقہ ادارے ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔
متاثرہ تاجروں اور عام شہریوں نے آگ پر قابو پانے میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور فائر بریگیڈ کی کارکردگی اور انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






