کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے حوالے سے فائر بریگیڈ حکام نے ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق آگ کی شدت اور عمارت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث گل پلازہ کا عقبی حصہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں امدادی کارروائیوں کے دوران فرقان نامی ایک فائر فائٹر عمارت گرنے کی وجہ سے جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کے ایم سی فائر بریگیڈ کا ایک اور اہلکار ملبے تلے دب کر زخمی ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک اس واقعے میں 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ پر تقریباً 60 فیصد تک قابو پا لیا گیا ہے تاہم عمارت کے اندرونی حصوں میں وقفے وقفے سے دوبارہ آگ بھڑک اٹھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ فائر فائٹرز نے عمارت کو تین اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے اور آگ بجھانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جائے وقوعہ پر پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن اس وقت سب سے بڑا چیلنج آگ کو مکمل طور پر بجھانا ہے کیونکہ عمارت کا ڈھانچہ آگ کی تپش کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کا سامنے والا حصہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






