شکر ہے رٹھوعہ ہریام برج بھی کسی کو یاد آیا، تحریر: جاوید ملک

میرپور آزادکشمیر میں منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے تحت منگلا جھیل پر بننے والے آر سی سی پل کی تعمیر کا منصوبہ گزشتہ چودہ برس سے التوا کا شکار ہے۔ اگست 2006 میں اس منصوبے کا اوسط تخمینہ 2،975 ملین روپے تھا۔ 2011 میں یہ منصوبہ پھر ریوائز ہوا جس کی لاگت 4232،855 ملین روپے رکھی گی۔ منصوبے کی تکمیل 2014 کو ہونا تھی۔ تاہم منصوبہ کے دوران درمیان میں آر سی سی پل کے لیے جو پلیئر بنائے جانے تھےتمام تر کوششوں کے باوجود بھی منگلا جھیل میں بالخصوص پل کی درمیانی جگہ گہری کھائی اور پانی کی سطع کم نہ ہونے کے باعث بنائے جاسکے۔

چنانچہ  2017 میں یہ منصوبہ ایک بار پھر ریوائز ہونے کے لیے ایکنک میں بھیجاگیا۔ جس کو ریوائز کرکے اس کا تخمینہ 6380،156 ملین روپے تک بڑھا دیا گیا جس میں 160 میٹر سٹیل بیرج بھی شامل تھا تاہم اس منصوبے کے لیے کل 4899،528 ملین روپے ریلیز کیے گے لیکن پھر بھی یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔

وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے برسراقتدار آنے کے بعد اہل میرپور کے مطالبہ پر سنجیدگی سے توجہ دی۔ کیوں نہ دیتے۔ میرپور کے شہریوں نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے دو مرتبہ اباواجدا کی قبروں کو اور اپنے ہنستے بستے گھروں، کھیت کھلیان کو پانی کی نظر کردیا تاکہ پاکستان روشن ہو۔

منگلا جھیل پر میرپور اور اسلام گڑھ کو ملانے والے 7 کلومیٹر کے پل کی تعمیر سابقہ حکومتوں کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی کے باعث مسلسل التوا کا شکار ہوتی رہیں۔ حتیٰ کہ 3 ارب روپے کا منصوبہ ساڑھے چھ ارب تک جا پہنچا۔ اس کے باوجود بھی یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔ وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے اقتدار سنھبالنے کے بعد اس منصوبے کی تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور منصوبہ کی تکمیل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مشاورت اور غور وفکر کے بعد  منصوبہ کو کشمیر کونسل سے لے کر آزاد کشمیر کے بجٹ سے مکمل کا فصیلہ کیا۔ اس منصوبہ کو پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے کے حوالے کیا جاچکا ہے۔ قوی امید ہے کہ اب اس منصوبہ پرتعمیراتی کام کا آغاز ہوجائے گا۔ سابقہ حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث متاثرین منگلا ڈیم کو  شدید تحفظات تھے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے اسلام گڑھ اورمیرپور جڑواں شہر بن جائیں گے۔ میرپور ڈویژن کے عوام کی 30 کلومیٹر سفری طوالت کم ہو جائے گی۔

تعمیرات کی دنیا میں یہ منصوبہ جنوب ایشیاء کا بڑا اور خوبصورت ترین منصوبہ ثابت ہوگا۔ یقیناً آزاد کشمیر بالخصوص میرپور میں سیاحت  کو زبردست فروغ ملے گا۔ منگلا جھیل پر بننے والے 7 کلومیٹر طویل اس آر سی سی پل اور دونوں اطراف سے اپروچ روڈ کو دیکھنے کے لیے سیاح میرپور کا رخ کریں گے۔ آزاد کشمیر میں بین الاقوامی سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

منگلا جھیل صاف شفاف پانی کی جھیل ہے جہاں کشتی رانی، واٹر سپورٹس کے بین الاقوامی نوعیت کے مقابلے کرانے جاسکتے ہیں۔ جھیل کے اطراف متعدد سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ حسن اتفاق سے منگلا جھیل کے کنارے دو قدیم تاریخی قلعہ یعنی منگلا اور قلعہ رام کوٹ پائے جاتے ہیں۔ جن کا ذکر قدیم تاریخ میں پایاجاتا ہے۔ اس طرح ڈیم کنارے جڑی کس کے مقام پر اور وائی کراس پر آصفہ بھٹو پارک کے ساتھ ساتھ پرل کنٹینٹل ہوٹل بھی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ جبکہ منگلا جھیل کے کنارے بائی پاس روڈ پر مزید 4 پبلک پارکس بھی ہیں۔ جن میں سے ایک فیملی پارک ہے جسے بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ یہاں انواع واقسام کے کھانوں کے علاوہ تمام تر ضروری سہولیات سے مزین پارک بھی موجود ہے۔منگلا جھیل کے دلکش نظارہ سے بھی لوگ محظوظ ہوتے ہیں۔

میرپور آزاد جموں و کشمیر کا نہایت ہی خوبصورت اور جدید نوعیت کا شہر ہے۔ جس کی بین الاقوامی حیثیت ہے کیونکہ آٹھ لاکھ کے لگ بھگ شہری یورپ بالخصوص برطانیہ میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں۔ میرپور شہرکے عین قلب میں بین الاقوامی سطح کا کرکٹ اسٹیڈیم بھی ہے۔2 میڈیکل کالجز ،مسٹ یونیورسٹی، پوسٹ گریجویٹ کالجز ،سمیت آزاد جموں و کشمیر کا سب سے بڑا صنعتی زون بھی یہاں پایاجاتا ہے۔ڈرائی پورٹ بھی زیر تعمیر ہے۔ اتنی سہولیات اور کثیر الجہتی شہر میں رٹھوعہ ہریام برج جیسے خوبصورت پل کی تعمیر جب مکمل ہوگی تو شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جائیں گے۔ برقی قمقموں سے سجا پل دیکھ کر ایسے لگے گا جیسے ستارے زمین پر اترآئے ہیں۔

دہائیوں سے زیر التوا اس منصوبے کی تعمیر کریڈٹ تحریک انصاف پاکستان اور وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کو جاتا ہے۔ جہنوں نے اہل میرپور اور بالخصوص متاثرین منگلا ڈیم کے دیرینہ مسئلہ کوحل کر نے میں دلچسپی لی اور اس مسئلہ کو یکسو کیا۔

انشاءاللہ، یہ منصوبہ جلد حققیت کا روپ دھارے گا۔ میرپور والوں کی مایوسی اور یاسیت مسرت اور امید میں بدل جائے گی۔