پنجاب کابینہ میں چوہدری پرویز الہیٰ کے گروپ کو نمائندگی کب ملے گی؟ اندر کی کہانی باہر آ گئی

لاہور (آئی این پی) صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی کی نامزد کردہ 22 رکنی کابینہ آج ہفتے کے روز حلف اٹھائے گی۔ اس بات کی تصدیق کابینہ کے نامزد وزیر انصر مجید نیازی نے کردی ۔ نامزد وزیر انصر مجید نیازی نے کہاہے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کی صبح 11 بجے گورنر ہائوس لاہور میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نئی صوبائی کابینہ سے حلف لیں گے، اور اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل ہیں ہمارے پاس آخری سرکاری اطلاع تو یہی ہے۔

چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلی کا حلف اٹھائے ایک ہفتے سے زائد کا وقت ہو چکا ہے اور انہیں بھی کابینہ بنانے میں خاصی دقت کا سامنا رہا۔ق لیگ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ کابینہ میں شریک وزرا اور ان کی تعداد سے متعلق تھی۔ چوہدری پرویز الہی بڑی کابینہ کے حق میں تھے جب کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اس بار پنجاب کی کابینہ چھوٹی رکھنا چاہتے تھے۔عمران خان کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلم لیگ ق کا کوئی وزیر کابینہ میں شامل نہیں ہوگا۔ ایک ہفتہ جاری رہنے والی اس کشمکش کا اختتام بالآخر اس وقت ہوا جب عمران خان کی شرائط پر 22 رکنی کابینہ کا اعلان کیا گیا اور میں ق لیگ کا ایک بھی وزیر نہیں تھا۔ اس صورت حال کو ق لیگ کے رہنما چوہدری مونس الہٰی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کچھ اس طرح سمیٹا کہ ابھی یہ کابینہ کا پہلا مرحلہ ہے، ابھی دوسرا مرحلہ ابھی آئے گا۔اپنے ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ میری چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور میں نے انہیں اس بات کا یقین کروایا ہے کہ ہمیں آپ نے پنجاب کی وزارت اعلی دی ہے اور ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔تاہم ان کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے دوسری مرحلے میں ہمیں کابینہ میں حصہ دینے کی بات بھی کی ہے۔ اس ٹویٹ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کس طرح کی پیچیدگیوں کا سامنا پرویزالہی کو اپنی کابینہ بنانے کے لیے کرنا پڑا۔دوسرا بڑا مسئلہ کابینہ کے حلف کا تھا جس میں خیال یہی تھا کہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نئی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے۔

اس طرح کی صورت حال کا سامنا سابق وزیراعلی حمزہ شہباز کو بھی کرنا پڑا تھا جب کئی ہفتوں تک ان کی کابینہ کا حلف نہیں ہوا تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ اس وقت تحریک انصاف کے گورنر عمر چیمہ اس نشست پر براجمان تھے۔ اب یہ رکاوٹ بھی دور ہوچکی ہے اور پس پردہ کوششوں سے یہ 22 رکنی کابینہ اب ہفتے کی صبح حلف اٹھا رہی ہے۔ وزیراعلی پنجاب پرویز الہٰی کی کابینہ میں زیادہ تر وزرا وہی ہیں جو سابق وزیراعلی عثمان بزدار کے دور میں وزیر رہے، حتی کہ ان کو وزارتیں بھی وہی دی گئی ہیں جو گذشتہ حکومت میں ان کے پاس تھیں۔ سابقہ وزرا جو اب نئی کابینہ میں بھی ہوں گے ان میں یاسمین راشد، مراد راس، میاں اسلم، راجا بشارت، انصر مجید نیازی، تیمور ملک، راجا یاسر ہمایوں اور میاں محمود الرشید شامل ہیں۔ اسی طرح اس کابینہ میں کچھ نئے چہرے بھی ہوں گے جن میں علی افضل ساہی، خرم شہزاد ورک جبکہ عمر چیمہ جو اس سے قبل گورنر پنجاب رہے ہیں کو مشیر برائے اطلاعات بنایا گیا ہے۔