حلیم عادل شیخ کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ تفصیلات آگئیں

کراچی(پی این آئی ) سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما حلیم عادل شیخ کو کس نے کس کیس میں گرفتار کیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں حلیم عادل کی بازیابی کی درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق حلیم عادل شیخ کے خلاف جامشورو اینٹی کرپشن تھانے میں مقدمہ درج ہے، محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے محکمہ پنجاب کو خط لکھا کر کہا گیا کہ ایک مفرور ملزم مبینہ طور پر لاہور میں روپوش ہے، اس کی گرفتاری میں معاونت کی جائے، جس پر محکمہ داخلہ پنجاب نے گرفتاری کا اجازت نامہ دے دیا۔

جامشورو اینٹی کرپشن سے تفتیشی افسر ذیشان حیدر میمن کو حلیم عادل کی گرفتاری کے لیے بھیجا گیا، جب کہ گھوٹکی سے سب انسپکٹر مسری خان دھانی ان کے ساتھ شامل تھے۔حلیم عادل کے خلاف مقدمہ جعل سازی سے زمین فروخت کرنے کے معاملے پر درج کیا گیا ہے، اور یہ آج صبح ساڑھے سات بجے درج کیا گیا، جس میں ان پر زمین کی خریداری کے لیے جعلی کاغذات کے استعمال کا الزام ہے، ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حلیم عادل پر سرکاری اراضی کو منظم جعلی ریکارڈ کی بنیاد پر ہڑپ کرنے کا الزام ہے۔حلیم عادل شیخ کو گرفتار کرنے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کا اجازت نامہ بھی سامنے آ گیا ہے، محکمے نے سندھ اینٹی کرپشن کی درخواست پر گرفتاری کی اجازت دی تھی۔لاہور اینٹی کرپشن اور تھانہ گلبرگ پولیس بھی حلیم عادل کی گرفتاری کے وقت موجود تھی، مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ زمین کی بنیاد پر حلیم عادل شیخ نے بینک سے 21 لاکھ 47 ہزار کا قرض لیا، یہ قرض ایگری کلچر ڈویلپمنٹ بینک سے حاصل کیا گیا۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل کی بازیابی کی درخواست دی گئی ہے، عدالت نے پنجاب حکومت اور پولیس افسران کو اڑھائی بجے رپورٹ دینے کا حکم دیا، عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ ڈھائی بجے تک بتایا جائے حلیم عادل کہاں ہیں۔