آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ماہرین نے پاکستان میں منکی پاکس (Mpox) کے مقامی پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر فوری آگاہی اور احتیاطی اقدامات کی اپیل کی ہے۔
ماہرین وبائی امراض کے مطابق ملک میں اب تک صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر رہی ہے، کیونکہ وائرس اب صرف بیرونِ ملک سے آنے والے کیسز تک محدود نہیں رہا بلکہ مقامی سطح پر منتقلی کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان میں 53 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن میں زیادہ تر کا تعلق بیرونِ ملک سفر سے تھا، تاہم 2026 میں اس رجحان میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ کراچی میں حالیہ کیسز میں مقامی منتقلی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ خیرپور میں پھیلاؤ نے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بروقت تشخیص اور آگاہی ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا مؤثر ذریعہ ہے، اس لیے علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کی جائے۔
ڈاکٹرز کے مطابق منکی پاکس فضائی وائرس نہیں ہے بلکہ یہ قریبی جسمانی رابطے، آلودہ کپڑوں یا بستر، طویل قریبی میل جول اور بعض صورتوں میں ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔
نمایاں علامات میں بخار، سوجے ہوئے لمف نوڈز اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے یا زخم شامل ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام والے افراد، حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچے زیادہ خطرے میں ہیں۔
ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ انفیکشن کنٹرول کے پروٹوکول سخت کیے جائیں، جبکہ مشتبہ مریضوں کو 21 دن تک اپنی صحت کی نگرانی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






