صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل دیکھنے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ

موجودہ دور میں موبائل فون انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، اور بیشتر افراد دن بھر وقفے وقفے سے اپنی اسکرین دیکھتے رہتے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس کے زیادہ استعمال کے باعث صحت اور روزمرہ معمولات پر مختلف منفی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق موبائل فون کے استعمال سے متعلق کیے گئے ایک سروے میں ایک تشویش ناک رجحان سامنے آیا ہے، جس کے مطابق تقریباً 84 فیصد صارفین صبح نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد یا پندرہ منٹ کے اندر اپنا موبائل فون استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق یہ عادت انسانی دماغ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہوتا ہے تو ابتدا میں اس کا دماغ ڈیلٹا اسٹیٹ یعنی گہرے سکون کی حالت میں ہوتا ہے، جس کے بعد یہ بتدریج الفا اسٹیٹ میں داخل ہوتا ہے، جہاں انسان بظاہر جاگ چکا ہوتا ہے مگر ذہن مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا۔ اس کے بعد دماغ بیٹا اسٹیٹ تک پہنچتا ہے جہاں وہ مکمل طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی فرد جاگتے ہی موبائل فون استعمال کرنے لگے تو دماغ کو سکون کی حالت سے اچانک مکمل سرگرمی کی حالت میں منتقل ہونا پڑتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور انسان بے چینی، چڑچڑاپن اور تھکن محسوس کر سکتا ہے۔ بعض اوقات اس کے باعث پورے دن کے دوران کام میں دلچسپی بھی کم ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد کم از کم تیس منٹ سے ایک گھنٹہ تک موبائل فون کا استعمال نہیں کرنا چاہیے تاکہ دماغ کو قدرتی انداز میں بیدار ہونے کا موقع مل سکے۔

اسی طرح انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سونے سے پہلے موبائل فون استعمال کرنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے۔

ان کے مطابق سونے سے پہلے اسکرین دیکھنے کی عادت نیند کے معمولات کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بہتر صحت کے لیے موبائل فون کے استعمال میں اعتدال اختیار کرنے اور اس کے لیے مناسب وقت کا انتخاب کرنے پر زور دیتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close