نادرا نے بچوں کے فارم ب کا نیا طریقہ متعارف کرایا ہے جس کے مطابق ہر بچے کے تین بار ب فارم بنائے جائیں گے۔
ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو شناختی کارڈ سمیت دیگر شناختی دستاویزات فراہم کرنے والے واحد مجاز ادارے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن سینٹر نے بچے کے ب فارم کا نیا طریقہ متعارف کرایا ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت ہر بچے کا الگ اور تین مختلف مراحل میں تصویر کے ساتھ ب فارم بنایا جائے گا اور ایک مقررہ معیاد کے بعد وہ ختم ہو جائے گا۔
بچے کی پیدائش پر پہلا ب فارم تصویر کے بغیر بنے گا، جس کی معیاد بچے کی تین سال عمر تک ہوگی۔
دوسرا ب فارم تین سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد تصویر کے ہمراہ بنے گا اور اس کی مدت بچے کی 10 سال کی عمر تک ہوگی، یہ فارم بچے کی عمر 10 سال ہونے تک موثر رہے گا۔
بچے کی عمر 10 سال سے زیادہ ہونے پر ب فارم دوبارہ بنے گا، جس کے لیے بچے کی تصویر، آئرس فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اور اس کی میعاد 18 سال کی عمر تک ہوگی۔
والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش پر ایک ماہ کے اندر یونین کونسل میں اندراج کرائیں اور نادرا سے ب فارم بنوائیں۔
تین سالہ میعاد ختم ہونے پر بر وقت نیا ب فارم بنوانے کے لیے بچے کے ہمراہ قریبی نادرا دفتر تشریف لائیں یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے گھر بیٹھے ب فارم بنوائیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






