امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کا لائسنس پھر سے منسوخ

 امریکا نے ایران پر تیل فروخت کرنے کی پابندی دوبارہ عائد کرتے ہوئے اس کا لائسنس منسوخ کر دیا۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے پر ایران کے خلاف اقدام کیا گیا، امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کو آبنائے میں جہازوں پر حملوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے 22 جون کو عمومی لائسنس جاری کیا تھا، جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹرو کیمیکل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی تھی، تاہم اب امریکی محکمہ خزانہ نے اس مدت کو کم کر کے 17 جولائی تک اسے محدود کر دیا ہے۔

امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فی صد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادھر امریکا نے ایران میں مخصوص اہداف پر فضائی کارروائی کی ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف طاقت ور فضائی کارروائی کی گئی، حالیہ فوجی کارروائیاں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے ردِعمل میں کی گئی ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تجارتی جہازوں پر حملے کیے تھے، سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے، جس کا مقصد آئندہ حملوں کی روک تھام ہے۔ سینٹکام کے مطابق ایران کی کارروائیاں بلااشتعال، خطرناک اور بین الاقوامی سمندری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close