نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے) کے ملازمین کے لیے تنخواہوں میں اضافے، کارکردگی انکریمنٹ اور محدود بونس کی منظوری دے دی، تاہم کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے متعدد اضافی اخراجات مسترد یا نمایاں حد تک کم کر دیے گئے۔
مالی سال 2025-26 کے لیے جاری فیصلے کے مطابق ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے 4.49 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ کارکردگی کی بنیاد پر مزید 6 فیصد انکریمنٹ کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تنخواہوں میں 10.49 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔
نیپرا نے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے ایک ارب 58 کروڑ روپے اور مختلف مراعات کی مد میں 24 کروڑ 90 لاکھ روپے کے بجٹ کی منظوری بھی دی ہے۔
ادارے کی جانب سے ملازمین کے بونس کے لیے 19 کروڑ 90 لاکھ روپے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم ریگولیٹر نے اسے نمایاں طور پر کم کرتے ہوئے صرف ایک بنیادی تنخواہ کے مساوی بونس، یعنی 5 کروڑ 56 لاکھ روپے کی اجازت دی۔
دوسری جانب نئی بھرتیوں سے متعلق کمپنی کی درخواست بھی مکمل طور پر قبول نہیں کی گئی۔ نیپرا نے پہلے سے بھرتی کیے گئے 26 ملازمین کے لیے 10 کروڑ 97 لاکھ روپے کی منظوری دی، جبکہ آئندہ ہونے والی کسی بھی نئی بھرتی کو الگ سے ریگولیٹری منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔
اسی طرح اسٹاف ٹریننگ کے لیے مانگے گئے 3 کروڑ 20 لاکھ روپے کے بجائے صرف 85 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ ہیڈ ہنٹنگ فرمز، کنسلٹنٹس اور معاوضہ سروے کے لیے مشیروں کی خدمات حاصل کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
نیپرا نے کمپنی کے انتظامی اخراجات بھی کم کر دیے۔ 31 کروڑ 60 لاکھ روپے کے مجوزہ بجٹ کو گھٹا کر 27 کروڑ 11 لاکھ روپے کر دیا گیا، جس میں کمیونیکیشن، آڈٹ فیس اور انشورنس سمیت دیگر انتظامی اخراجات شامل ہیں۔
مزید برآں آئی ٹی سروسز اور گاڑیوں کی مرمت کے لیے طلب کیے گئے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے کے بجٹ کو بھی کم کر کے 13 کروڑ 70 لاکھ روپے تک محدود کر دیا گیا۔
ریگولیٹر نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ موجودہ بجلی بحران اور معاشی حالات کے پیش نظر صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اسی لیے صرف ضروری اخراجات کی منظوری دی گئی جبکہ غیر ضروری اور اضافی مطالبات مسترد کر دیے گئے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






