انا للہ و انا الیہ راجعون ، ممتاز عالمِ دین خالق حقیقی سے جا ملے

برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، معروف اسلامی اسکالر، مصنف اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سابق استاذ حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندویؒ انتقال کر گئے،  وصال کی خبر سے ملک و بیرونِ ملک علمی، دینی اور مذہبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔

 

خاندانی ذرائع کے مطابق حضرت مولانا کی نمازِ جنازہ آج پیر کو نمازِ عصر کے بعد جامعہ سید احمد شہید، کٹولی، ملیح آباد میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد وہیں تدفین عمل میں آئے گی۔

 

حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندویؒ 1952 میں لکھنؤ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ وہ علمِ حدیث، تفسیر اور دعوتِ اسلامی کے ممتاز ماہرین میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے طویل عرصہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں حدیث و تفسیر کے استاذ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد ازاں فیکلٹی آف دعوہ کے ڈین بھی رہے، آپ نے ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں علمی و دعوتی خطابات کیے اور متعدد اہم علمی و تحقیقی تصانیف یادگار چھوڑیں۔

 

حضرت مولانا مختلف دینی و تعلیمی اداروں سے بھی وابستہ رہے وہ جمعیت شباب الاسلام کے صدر، دارالعلوم سید احمد شہید کے چانسلر اور ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج کے چیئرمین تھے۔

 

حضرت مولانا کا تعلق برصغیر کی ایک ممتاز علمی و دینی خانوادے سے تھا، وہ عظیم اسلامی مفکر اور معروف عالمِ دین حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ (علی میاں) کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندویؒ کی رحلت سے دینی و علمی دنیا ایک بلند پایہ عالم، مدبر، محقق اور مصلح سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کی علمی، دعوتی اور تعلیمی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close