امریکا نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے برطانوی نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سینٹکام اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حکام دوحہ میں جلد ملاقات کریں گے۔ جس میں اختلافات ختم کرنے، معاشی مراعات اور تعاون پر بات چیت ہو گی۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ایسے نئے رابطے قائم کیے ہیں جو پہلے نہیں تھے، ان رابطوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ رابطے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ براہِ راست رابطوں کا یہ نیا سلسلہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مستقبل میں بہتر تعلقات کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوئی فیس نہيں ہو گی ، کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز سے ٹیکس وصول نہيں کر سکتا۔
خلیجی ملکوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ خلیج تعاون تنظیم کے ملکوں نے آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس وصولی کی مخالفت کی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت نہ ہونا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی ، ایران کے ساتھ معاہدے میں خلیجی اتحادیوں کا تحفظ بھی شامل ہو گا۔
امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی ممالک نے اپنے کچھ سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے ، خلیجی ممالک سے ایران کی تعمیرِ نو کے فنڈ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔
امریکی وزیرخارجہ نے کہا خطے میں پراکسیز گروپ کو حاصل ایران کی حمایت امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، ہم ایران کے اقدامات سے معاہدے پر قائم رہنے کی ان کی نیک نیتی کو دیکھیں گے، صدر ٹرمپ بھی عملی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ایران کے ساتھ معاہدہ کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یورپ کی جانب سے فوجی اڈے دینے سے انکار نے امریکا یورپ اتحاد کو کمزور کیا، ایران کا خطرہ امریکا سے زیادہ خود یورپ کو ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






