پنجاب بجٹ منظور ہوگا یا نہیں؟ نیا تنازع کھڑا ہوگیا، اپوزیشن نے بجٹ کو غیرقانونی قرار دے کر عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب بجٹ منظور ہوگا یا نہیں؟ نیا تنازع کھڑا ہوگیا اور پنجاب بجٹ کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ گئے۔ اپوزیشن نے بجٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا۔پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے حالیہ بجٹ میں بغیر منظوری کے شامل کیے گئے پراجیکٹس کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اپوزیشن نے ان پراجیکٹس کو بغیر منظوری بجٹ میں شامل کرنے کی بنیاد پر عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن رکن رانا آفتاب نے کہا ہے کہ 10 ارب روپے سے زائد حجم کے منصوبے ایکنک منظوری کے بغیر بجٹ میں شامل کیے گئے اس کے خلاف عدالت جائیں گے۔
دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بجٹ کے پورے عمل پر رولنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن رکن رانا آفتاب نے پوائنٹ آف آرڈر پر قانونی سوال اٹھایا ہے۔
ایکنک کی منظوری کے بغیر بجٹ میں شامل منصوبوں کی تفصیلات
بجٹ دستاویز کے مطابق پی ڈی ڈبلیوپی کے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہورہے ہیں، 22 جون سے شروع ہونے والی میٹنگز 29 جون تک روزانہ ہوں رہی ہیں، اجلاس کے ایجنڈے میں 118 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، 193 ارب روپے کا “صنعتی ترقی و برآمدی پروگرام (STEP)” ایجنڈے میں شامل ہے۔
169 ارب روپے کے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور منصوبے کی منظوری زیر غور ہے، 160.4 ارب روپے کے وزیراعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام پر غور جاری ہے، 100 ارب روپے لاہور تا راولپنڈی ہائی اسپیڈ ریل منصوبہ ایجنڈے کا حصہ ہے۔
100 ارب روپے پوٹھوہار ریجن میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی تجویز ہے، 50.2 ارب روپے مریم نواز اسپورٹس سٹی لاہور کیلئے فزیبلٹی اور سیڈ منی منصوبہ ہے، 42 ارب روپے نارتھ/پوٹھوہار لیزر بیلٹ منصوبہ منظوری کیلئے پیش کیے گئے ہیں، 33.1 ارب روپے کے STEM لیبارٹریز پروگرام پر غور ہورہاہے، 31 ارب روپے لاہور ہیریٹیج منصوبہ ایجنڈے میں شامل ہیں۔
اسی طرح 28 ارب روپے سرگودھا میں جھینگا فارمز (Shrimp Farms) منصوبہ پیش ہے، 23.4 ارب روپے چلڈرن اسپتال بہاولپور کے قیام کی منظوری متوقع ہے، 20 ارب روپے ریلیجس ٹریل پنجاب منصوبہ زیر غور ہے، 17 ارب روپے لاہور ڈویژن میں بس ڈپو اور شیلٹرز منصوبہ پیش ہے، 15.2 ارب روپے کلثوم نواز کینسر اسپتال ڈی جی خان منصوبہ ایجنڈے میں شامل ہے، 15 ارب روپے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ اور متعدد ایگرو پروسیسنگ پارکس کی تجاویز زیر غور ہیں۔
بجٹ میں 14.2 ارب روپے لاہور کنونشن سینٹر منصوبہ زیر غور ہے، 12.5 ارب روپے گارمنٹس پلگ اینڈ پلے پارک منصوبہ پیش کیا گیا ہے، 12 ارب روپے نہری نظام کی بحالی اور 12 ارب روپے نئے راوی سیفون منصوبے پر غور ہوگا، 10 ارب روپے ریجنل ریلوے ٹریکس پنجاب منصوبہ ایجنڈے کا حصہ ہیں، 10 ارب روپے کلسٹر انفراسٹرکچر اینڈ اکنامک زون ڈویلپمنٹ منصوبہ ہے، 9.5 ارب روپے لاہور میں الیکٹرک بسوں کیلئے ڈپو اور انفراسٹرکچر منصوبہ ہے۔
اسی طرح 9.4 ارب روپے فلم اینڈ میوزک اسکول اور 9.4 ارب روپے ٹرانسپورٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر لاہور منصوبے شامل ہیں، 9 ارب روپے پنجاب اپلائنس پرفارمنس اینڈ انرجی ایکسیلنس لیب منصوبہ پیش کیا گیا ہے، 8 ارب روپے راولپنڈی والڈ سٹی بحالی منصوبہ زیر غور ہے، 7.5 ارب روپے پنجاب میں جی پی یو بیسڈ کلاؤڈ انفراسٹرکچر منصوبہ ایجنڈے میں شامل ہے، 6.8 ارب روپے پیرا ٹریننگ اکیڈمی کلر کہار اور ہل ٹورنٹس لینڈ ایکوزیشن منصوبے شامل ہے، 6 ارب روپے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد توسیعی منصوبہ زیر غور ہے، 5.2 ارب روپے پنجاب کے سیکنڈری اسپتالوں کیلئے طبی آلات کی فراہمی کا منصوبہ ہے،
5 ارب روپے سی سی ڈی کے ریجنل دفاتر، اقلیتی ترقی پروگرام اور متعدد صنعتی منصوبے ایجنڈے میں شامل ہے، 4.5 ارب روپے لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ 4 اور آٹزم اسکول سیٹلائٹ کیمپس منصوبے پیش ہے، 4 ارب روپے سکول میل پروگرام، مریم نواز اکیڈمک لیڈرشپ سینٹر، اقلیتی عبادت گاہوں کی بحالی اور دیگر منصوبے زیر غور ہے،
3.2 ارب روپے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) ہیڈکوارٹر لاہور منصوبہ ایجنڈے میں شامل ہے، 1.06 ارب روپے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے قیام کی منظوری بھی متوقع ہے،
ذرائع کے مطابق یہ وہ تمام منصوبے ہیں جو حالیہ بجٹ میں شامل ہیں لیکن ان کی تاحال منظوری نہیں لی گئی۔
ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز سے قبل متعدد میگا پراجیکٹس کی تیز رفتار منظوری کیلئے مسلسل PDWP اجلاس منعقد کر رہی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






